50

آئی ایم ایف مشن کی پاکستانی وفد سے ملاقات، فرٹیلائزر پلانٹس کو سستی گیس کی فراہمی پر اظہار تشویش

پاکستان اور آئی ایم ایفکے درمیان قلیل مدتی قرض پروگرام کے جائزہ مذاکرات کا پہلا سیشن مکمل ہوگیا۔ اقتصادی جائزہ مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کا وفد مشن چیف نیتھن پورٹ کی قیادت میں وزارت خزانہ پہنچا، پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ بھی پاکستانی وفد کا حصہ تھےآئی ایم ایف نے فرٹیلائزر پلانٹس کو سستی گیس کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کردیا۔ آئی ایم ایف وفد نے وزیرتوانائی، ایف بی آر، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام حکام سے ملاقاتیں اور اجلاس کا انعقاد کیا، ایف بی آر حکام نے وفد کو ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور ٹیکس پالیسی پربریفنگ دی۔ آئی ایف ایم کے وفد کووزارت توانائی کےحکام نے گردشی قرضہ، ٹیرف آؤٹ لک، کاسٹ سائیڈ ریفامز بارے بھی آگاہ کیا، ایف بی آر حکام نے ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور ٹیکس پالیسی ، ذرائع وزارت خزانہ نے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ افراد، آؤٹ لک اور ڈویلپمنٹ پر وفد کو معلومات فراہم کیں ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے فرٹیلائزر پلانٹس کو سستی گیس کی فراہمی کو جلد ختم کرنے کا اقدامات کا مطالبہ اور عالمی مارکیٹ میں کموڈیٹی پرائس مستحکم اور پاکستان میں نرخوں بڑھنے پر بھی اظہار تشویش کیا وفد کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسیشن اور ریٹیلرز کیلئے ٹیکس میکنزم پر بریفنگ دی گئی، آئی ایم ایف وفد نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر، مینوفیکچرر شعبے اور ریٹیلرز پر ٹیکس اقدامات اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو دستاویزی بنا کر ٹیکس سسٹم میں لانے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع وزارت خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس اور اصلاحات کے حوالے سے آئی ایم ایف وفد کی سٹیٹ بینک حکام سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں