35

جنوبی کوریا بچوں کی پرورش کے لحاظ سے دنیا کا مہنگا ترین ملک

اسلام آباد : ایک حالیہ تحقیقات کے مطابق جنوبی کوریا 18سال کی عمر تک کے بچے کی پرورش کے لحاظ سے دنیا کا سب سے مہنگا ملک ہے۔ اسے ملک میں خواتین میں بارآوری کی گرتی ہوئی شرح اور آبادی کے بحران کی اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔بیجنگ میں قائم یووا پاپولیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں جنوبی کوریا کو بچوں کی پرورش کے لحاظ سے مہنگے ترین ملکوں کی فہرست میں سرفہرست رکھا ہے۔فی بچہ یہ خرچ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا 7.79 گنا ہے۔ جو تقریباً دو لاکھ 71 ہزار 957 ڈالر ہوتا ہے۔جنوبی کوریا کے اخبار ‘چوسن البو’ میں شائع اس رپورٹ کے مطابق چین اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں بچے کی پرورش کی لاگت فی کس جی ڈی پی کا 6.9 گنا ہے۔اس کے بعد جرمنی اور فرانس کا نمبر ہے جہاں یہ بالترتیب 3.64 اور 2.24 گنا ہے۔نئے نازی اپنے بچوں کی پرورش کیسے کرتے ہیں؟ایک طرف جہاں بچوں کی پرورش پر اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں دنیا کی دسویں سب سے بڑی معیشت میں بچوں کی پیدائش کی تعداد کم ہو رہی ہے۔مارچ میں جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی کوریا میں خواتین میں بارآوری کی شرح 0.78 ہے یعنی ہر 100خواتین میں سے صرف 78 اپنی زندگی میں صرف ایک بچہ پیدا کریں گی۔بارآوری کی شرح میں گراوٹیہ دنیا میں بارآوری کی سب سے کم شرح ہے اور سن 2000 کے مقابلے میں اس میں 1.48فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ 1980میں جنوبی کوریا میں بارآوری کی شرح 2.82 فیصد جب کہ 1960میں 5.95 تھی۔ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ملک کو امیگریشن کا سہارا لیے بغیر اگر آبادی کو مستحکم رکھنا ہے تو بارآوری کی شرح کو 2.1 تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔کوریائی شہریوں کی ایک بچے کی پرورش پر سب سے زیادہ خرچ اسکولی تعلیم پر ہوتی ہے۔ چوسن البو کا کہنا ہے کہ سن 2022 میں کوریائی شہریوں نے اپنے بچوں کے لیے پرائیوٹ کرام اسکولوں پر 17.94ارب یورو خرچ کیے یعنی ایک بچے پر ماہانہ 361.53 یورو خرچ کیے گئے۔پرائیوٹ کرام ایسے اسکولوں کو کہا جاتا ہے جو بچوں کو اعلی اور بہتر اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے تیار کرتے ہیں۔بچوں کو دیکھ بھال کے لیے بچے بازوں کے حوالے کیا جاتا رہاتین برس سے کم عمر کی بیٹی کی ماں اور پیشے سے وکیل ہان ایی جونگ کا کہنا تھا، “کوریا تعلیم پر انتہائی مرکوز معاشرہ ہے اور بیشتر خاندانوں میں بچوں کے لیے باقاعدہ اسکول کے بعد اضافی ٹیوشن معمول کی بات ہے۔ہان نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کرام اسکولوں کو جنوبی کوریا میں “ہاگون” کہا جاتا ہے اور بچے بالعموم چار برس کی عمر سے وہاں جانے لگتے ہیں، جہاں وہ کھیل کھیل میں انگریزی سیکھتے ہیں۔بچوں کی زندگی میں کثیراللسانیت سے جنم لینے والے نئے امکاناتہان کہتی ہیں، “اس وقت سیول میں اس کا کافی زیادہ رجحان ہے اور لوگ انگریزی کے ان کنڈر گارٹنس کے لیے ہر ماہ بہت زیاہ رقم ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کم عمری میں بچوں کے لیے کوئی نئی زبان سیکھنا زیادہ آسان ہوتا ہے اور وہ اسے ایک اہم مہارت بھی خیال کرتے ہیں۔ہان اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ وہ جب بھی اپنے دوستوں اور خاندان کے دیگر افراد سے ملتی ہیں تو تعلیم کے متبادل پر بات کرتی ہیں۔ ان کی عم زاد کی ایک بیٹی نے حال ہی میں انگلش کنڈر گارٹن میں داخلہ لیا ہے۔جنوبی کوریا میں والدین کی طرف سے بچوں کو اسکول کے معمول کے اوقات کے بعد بھی کنڈرگارٹن میں بھیجنے کے پیچھے ایک اور اہم وجہ کام کرنے والی ماؤں کی زیادہ تعداد ہے۔دراصل کرام اسکول بھی بچوں کی دیکھ ریکھ کے لیے جگہ فراہم کرتے ہیں۔نگریزی اور ریاضی پر توجہہان بتاتی ہیں کہ گوکہ یہ پرائیوٹ ادارے بچوں کے لیے اسپورٹس کلاسز یا موسیقی یا دیگر ثقافتی کلاسیزبھی چلاتے ہیں تاہم ان میں سے بیشتر انگریزی اور ریاضی کی کلاسوں پر توجہ دیتے ہیں۔ یہ دونوں مضامین ایسے ہیں جو اچھے ہائی اسکول میں داخلے کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔اچھے اسکول میں داخلے کے بعد ہی اچھی یونیورسٹی اور پھر ایک اچھے کیریئر کی امید کی جاسکتی ہے۔ہان کاکہنا تھا کہ “مستقل اسکول کے ساتھ ہی ایک اچھی پرائیوٹ تعلیم کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ بچے کو اچھے نمبر ملیں اور بہترین یونیورسٹیوں میں سے کسی ایک میں اس کا داخلہ ہوسکے۔”انہوں نے مزید کہا،”ایسا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک اچھی ملازمت کے امکانات زیادہ روشن ہوجاتے ہیں اس لیے ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ زندگی میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔جنوبی کوریائی خواتین کی جدوجہد، جہاں سچ بھی جرم ہو سکتا ہےسیول نیشنل یونیورسٹی میں ماہر معاشیات پارک سینگ ان ہان کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ گھریلو آمدنی کا غیر معمولی بڑا حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔ تاہم وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ نوعمروں کے لیے اس طرح کی مقابلہ آرائی مناسب ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، “میرے خیال میں کوریا میں تعلیم کے شعبے میں حد سے زیادہ مسابقت ہے بالخصوص جب بات یونیورسٹی میں داخلہ جاتی امتحانات کی ہو۔” انہوں نے کہا، “واضح طورپر بچہ جتنا زیادہ اور اچھا پڑھتا ہے اسے اچھی یونیورسٹی میں داخلے کا اتناہی زیادہ موقع ملے گا۔ لیکن جب چھوٹے بچے کھیلوں یا موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اسکولوں کے مقررہ اوقات کے بعد بھی کلاسز کرتے ہیں تو بالآخر صرف انہیں مضامین تک محدود ہوجاتے ہیں، جن کی انہیں یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔’والدین کا شکار’چوسن البو نے اپنے ایک اداریے میں کرام اسکول چلانے والوں پر “پریشان والدین کا شکار”بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ یہ اسکول چلانے والے والدین کو اس بات کے لیے اکساتے ہیں کہ وہ معاشرے میں اپنی توقعات کو پورا کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم ادا کریں۔تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کوریا میں شرح پیدائش اتنی کم کیوں ہے۔دراصل والدین کو کئی برسوں تک اپنے بچوں کو اضافی ٹیوشن پر کافی رقم خرچ کرنا پڑتا ہے۔پارک، جن کی کوئی اولاد نہیں ہے، کو امید ہے کہ کوریائی معاشرہ بتدریج بدل سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں لوگ اسکولی تعلیم پر کم اور خوشگوار بچپن پر زیادہ توجہ دیں گے۔جنوبی کوریا، اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے لیے جوڑ ملنا مشکلان کا تاہم کہنا تھا، “ایسا مستقبل قریب میں نہیں ہوگا۔البتہ مجھے امید ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہم مستقبل میں دیکھ سکتے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، ” میرا ماننا ہے کہ اچھی تعلیم ضروری ہے اور یہ ایک اچھی یونیورسٹی میں داخلے اور کیریئر کا باعث بنے گی لیکن کوریا میں بہت سے افراد، جن میں میں بھی شامل ہوں، سمجھتے ہیں کہ پرائیوٹ تعلیم پر ہونے والا خرچ حد سے آگے نکل چکا ہے اور ہمیں بہر حال ایک بہتر توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں