ڈاکٹرعذرا : ڈینگی سےاموات کا ڈیٹا درست نہ ہونے کا خدشہ ہے گھروں میں ہونے والے اموات رپورٹ نہیں ہوتی

سندھ : کی صوبائی وزیرصحت ڈاکٹرعذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ کراچی میں روزانہ 150 سے 200 افراد ڈینگی سے متاثر ہورہے ہیں تاہم اموات کا یہ ڈیٹا درست نہ ہونے کا خدشہ ہے کراچی میں وزیرصحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا پیچو ہو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈینگی کا ڈیٹا سرکاری اسپتالوں سے آرہا ہے لیکن ڈینگی کا ڈیٹا نجی اسپتالوں سے نہیں آرہا تھا انھوں نے کہا کہ روزانہ 150 سے 200 افراد شہر میں ڈینگی سے متاثر ہورہے ہیں تاہم اموات کا یہ ڈیٹا درست نہ ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ گھروں میں ہونے والے اموات رپورٹ نہیں ہوتی ہیں وزیر صحت نے یہ بھی بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین کا درست ڈیٹا نہیں مل رہا ہے تاہم اس وقت 9000 ہزار حاملہ خواتین ہمارے پاس کیمپس میں موجود ہیں اور ان کی ویکسینیشن بھی ہوگئی ہے ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے لیکن بہت سے متاثرین کیمپوں میں نہیں آنا چاہتے ہیں انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ 600 سے زائد اموات بیماری کے سبب رپورٹ ہوئی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ ملیریا سے ہورہی ہیں لیکن زیادہ اموات گیسٹرو اسہال اور پیچس سے ہورہی ہیں کراچی میں پولیو کیسز سے متعلق وزیر صحت نے وضاحت دی کہ کراچی کی 39 یوسیز میں سیوریج میں پولیو وائرس کی خبر غلط ہے صرف لانڈھی سے حاصل کئے گئے سیوریج کے پانی کے نمونے میں پولیو وائرس موجود ہے اس لیے 39 ہائی رسک یوسیز میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلا رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں