اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دے دیا چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کیلئے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دے دیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس کيس ميں دہشت گردی کی دفعات نہيں بنتی، دیگر دفعات پر قانون کے مطابق متعلقہ فورم پر کارروائی جاری رہے گی۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ انسداد دہشت گردی کے سوا دیگر دفعات کے تحت مقدمہ چلے گا، مقدمہ دیگر دفعات کے تحت انسداد دہشت گردی کی عدالت سے منتقل کیا جائے پیر کی صبح سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان نے اپنے بیان سے یقینناً افسران کو خطرے میں ڈالا، ایک ایسے شخص نے بات کی جس کی ایک مضبوط سوشل میڈیا ٹیم ہے،عمران خان کے پڑھے لکھے ہی نہیں کئی ناخواندہ فالوورز بھی ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ دہشتگردی کی دفعات کاغلط استعمال تو ہوتا رہا ہے،سپریم کورٹ دہشت گردی کےقانون کی تشریح کرچکی ہے، بادی النظرمیں ایک بھی دفعہ اس مقدمےمیں بنتی نظرنہیں آتی جسٹس اطہر من اللہ نے اسپیشل پراسیکیوٹر سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ خود مان رہے ہیں تفتیش میں تقریرکےعلاوہ کچھ سامنے نہیں آیا، جب کچھ سامنےنہیں آیا تو پھر دہشت گردی کا ڈیزائن تو نہیں ہوا نا۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل کو جاری رکھتے ہوئےکہا کہ عمران خان نے تقریر میں جج پر بھی بات کی، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئیے کہ آپ ججوں کی فکر نہ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں