لاپتا افراد کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو آج دو بجے طلب کر لیا

اسلام آباد : ہائی کورٹ میں لاپتا شہری کی بازیابی کے لئے دائر درخواست کے دوران عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو آج دو بجے طلب کر لیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتا شہری کے اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے بیٹے کو بائیس اگست کو گھر سے اٹھایا گیا تھا ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی مگر کچھ نہیں ہوا وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کہتی ہے آپ کا لڑکا ہمارے نہیں ایجنسیوں کے پاس ہے عدالت نے لاپتا شہری کی بازیابی پر جواب کیلئے انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس کو عدالت طلب کرلیا عدالتی ریم ارکس میں کہا گیا کہ آئی جی اسلام آباد دن 2 بجے تک عدالت کے روبرو پیش ہوں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شہریوں کو لاپتا کرنا آئین توڑنے کے مترادف ہے یہ عدالت پارلیمنٹ کا بہت احترام کرتی ہے تمام صوبوں کے چیف ایگزیکٹو بھی ذمہ دار ہیں اگر ان کے علاقے سے کوئی اٹھایا جاتا ہے اس عدالت کے فیصلے سے پہلے ایگزیکٹو نے اس بات کو یقینی بنانا ہوگی کہ کوئی لاپتہ افراد نہیں ہوں گے چیف جسٹس نے کہا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کمیشن کے متعلق بہت کچھ بتایا کمیشن لاپتا افراد کے لواحقین پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کو اذیت دیتے رہے جنھوں نے آئین کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف کارروائی ہونی چائیے معاملات کو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں ان پر قانون سازی کریں بھارت نے یہی کیا، دیگر ممالک نے یہی کیا چیف جسٹس نے وزیراعظم سے استفسار کیا تھا کہ جبری گمشدگیوں پر سیکیورٹی کونسل کے ہر رکن کو عدالت ذمہ دار ٹھہرائے لاپتا افراد کے پرانے کیسز پر لواحقین کو مطمئن کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے آئندہ کسی شخص کو لاپتا نہیں ہونا چاہیے تلاش کرنا عدالت کا نہیں ریاست کا کام ہے ریاست کے پاس ایجنسیز ہیں دیگر ذرائع ہیں جائیں اور تلاش کریں سول بالادستی اور اداروں پر حکومت کا کنٹرول آئین کے مطابق ہونا چاہیے وفاقی دارالحکومت سے ایک صحافی کو اٹھایا گیا جس کی ویڈیوز موجود ہیں یہ عدالت کیسے مان لے کہ ریاست اتنی کمزور ہے کہ اس کی تحقیقات نہ کر سکے ایس ای سی پی کے ایک افسر کو اٹھایا گیا اس نے واپس آ کر کہا کہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں