صوبہ سندھ کے ضلع نو شہرو فیروز میں بااثر افراد کی بے حسی سے 500 سے زائد گاؤں زیر آب آگئے

ااثر افراد نے اپنے باغات اور زمینوں کو بچانے کے لیے نہروں میں غیر قانونی کٹ لگا دیے جس سے بارش کا پانی سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر گیا
نہروں میں کٹ لگانے سے 500 سے زائد گاؤں زیر آب آگئے اور ایک لاکھ سے زائد شہری متاثر ہوئے دوسری جانب بھان سعید آباد شہر سے ملحقہ انڈس لنک کنال بند پر مختلف مقامات پر شگاف پڑ گئے جس کے نتیجے میں پانی تیزی سے آبادی والے علاقوں کی طرف بڑھنے لگا ہے اس کے علاوہ یونین کونسل بھمبھا اور شیخ کے 70 سے زائد دیہات ڈوب گئے جس کے باعث کپاس، آلو اور پیاز کے کھیت پانی میں ڈوب گئے ہیں پڈعیدن میں اب بھی سیکڑوں دیہاتوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ متاثرین کو اب تک حکومت کی جانب سے کوئی امداد نہیں ملی سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ بچے کھانے کے نوالے کو ترس رہے ہیں اور بیماریوں سے لڑ رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں