نئے آرمی چیف کے نام پر اتحادیوں سے مشاورت کرینگے، تقرری کے معاملے پر حکومت کسی دباؤ ميں نہيں آئے گی : خواجہ آصف

اسلام آباد: آرمی چيف کی تقرری کے معاملے پر حکومت کسی دباؤ ميں نہيں آئے گی، جو فيصلہ ہوگا آئين ميں درج طريقہ کار کے مطابق ہوگا اس عمل کو متنازع بنانے والوں کے خلاف بلا رعایت کارروائی کی جائے گی۔ امريکی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے انٹرويو ميں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان آرمی کے سپہ سالار کی تقرری کے معاملے میں کسی کے دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے، سابق وزیرِ اعظم نے آرمی چیف کی تعیناتی کے متنازع بیان دیا ہے، اس متنازع بیان پر انہیں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، عمران خان کے متنازع بیان پر قانونی کارروائی سے قبل اس بیان کی تحقیق کی جائے گی۔ عمران خان کو اس معاملے میں کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی خواجہ آصف نے کہا کہ فوج کے نئے سربراہ کے تقرر میں ابھی تین ماہ باقی ہیں حکومت جلد بازی سے کوئی فیصلہ نہیں لے گی آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر ادارے کا تقدس اور وقار بحال رکھنا ہمارے لیے مقدم ہے اگر کوئی شخص ادارے کا وقار مجروح کرنے کی کوشش کررہا ہے تو ہمیں اس کے دباؤ میں آکر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو روایتی طور پر غلط ہو۔ کی تقرری کے عمل کو متنازع بنانا کسی صورت قوم اور ملک کی خدمت نہیں بلکہ وہ اسے دشمنی سمجھتے ہیں وزیر دفاع کے مطابق فوج کے سربراہ کی تقرری کا طریقہ کار آئین میں درج ہے، فوج کی جانب سے وزیرِ اعظم کے پاس چار یا پانچ سینیر جنرلز کے نام آتے ہیں وزیرِ اعظم اپنی صوابدید کے تحت ایک کی تعیناتی کرتے ہیں آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے سوال پر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتحادی حکومت میں ہوتے ہوئے لازم ہوتا ہے کہ اہم فیصلوں میں مشاورت کی جائے یقینی طور پر فوج کی جانب سے سامنے آنے والے ناموں کو اتحادی رہنماؤں کے سامنے بھی رکھا جائے گا اس عمل میں حکومت اصولوں سے انحراف نہیں کرے گی۔ پہلے سے وضع کردہ قواعد اور قانون کے مطابق فیصلہ لیا جائے گا، ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع کے تناظر میں پاکستان کو پچھلے 20 برس سے غیر معمولی حالات کا سامنا ہے، غیر یقینی حالات میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی تقرریاں ہوتی رہی ہیں، اس وقت ملک میں سیاسی اور معاشی حالات سازگار نہیں، دفاعی ادارے کے حوالے سے اگر ہم بات کریں تو قطعی طور پر غیر معمولی حالات نہیں ہی رون حملے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے واضح کیا کہ افغانستان میں امریکا کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملے میں پاکستان کی سرزمین قطعی طور پر استعمال نہیں ہوئی، کابل ڈرون حملے میں پاکستانی سرزمین قطعی طور پر استعمال نہیں ہوئی۔ امریکی ڈرون پاکستانی سرزمین سے نہیں اڑے،اس وقت واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد کا ایسا کوئی معاہدہ نہیں۔ ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خلفشار کا شکار ہمسایہ ملک میں استحکام چاہتا ہے اس کے لیے افغانستان کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جارہی ہے ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اگر کسی منطقی انجام تک پہنچتی ہے تو اس میں افغان طالبان کا کردار ہے۔ امید ہےاس ضمن میں افغان طالبان کا کردار مثبت رہے گا کیوں کہ وہ ٹی ٹی پی پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں