سکھر نیشنل پریس کلب کے سماجی رہنما اور وکیل اشرف میمن سکھر کے وکیل رہنما کے خلاف

سکھر نیشنل پریس کلب کے سماجی رہنما اور وکیل اشرف میمن سکھر کے وکیل رہنما کے خلاف سکھر نیشنل پریس کلب پہنچ گئے، ایڈووکیٹ اشرف میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکھر کے باغ حیات علی شاہ کے رہائشی عبداللطيف کمبوہ سے میانی روڈ پر واقع پلاٹ کا 65لاکھ روپے عیوض جنوری 2020ع میں سودہ ہوا، پلاٹ 39 گز پر مشتمل ہے جس کی ایڈوانس رقم 27لاکھ روپے دے کر پانچ منزلہ پلازہ بنا لی ہے جب بقایا رقم 38 لاکھ روپے دینے کی باری آئی تو عبداللطيف کمبوہ ہرٹ اٹیک کے باعث انتقال کر گئے، مرحوم کے بیٹے تنویر کمبوہ و دیگر بہائیوں سے رجسٹری لینے کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ قبرستان میں جاکر ہمارے والد سے لو، مرحوم کے بیٹے تنویر کمبوہ دو نمبری وکیل اور سرکاری استاد بھی ہے، دو عہدے رکھنا قانونی جرم ہے، جب انہوں نے رجسٹری دینے سے انکار کیا تو میں نے رجسٹری حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا اور دو نمبری وکیل تنویر کمبوہ کے خلاف سندھ بار کونسل کو درخواست دی، اب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کے سابق صدر شفقت رحیم راجپوت ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں، پیشی کے دوران انہوں نے کورٹ میں مجھے غریبان سے پکڑا اور دہمکیاں دیں، بااثر وکیل شفقت رحیم راجپوت و دیگر مجھے پلازہ خالی کرنے کے حوالے سے قتل اور جھوٹے کیسز کی دہمکیاں دے رہے ہیں، مجھے کچھ بھی ہوا تو ذمہ دار بااثر وکیل شفقت رحیم راجپوت، تنویر کمبوہ، ندیم راجپوت اور ایڈووکیٹ وسیم میمن ہوں گے، انہوں نے کہا کہ مجھ پر دو جھوٹی ایف آئی آرز درج کروائی گئیں ہے، شفقت رحیم راجپوت کہتا ہے کہ سندھ بار کونسل کا میمبر ہوں مجھے کچھ نہیں ہوگا، میں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سندھ بار کونسل، سکھر بار کے رہنماؤں، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر و دیگر کو درخواستیں دی ہے لیکن تدارک نہیں کیا جا رہا، انہوں نے کہا کہ اگر مجھے جانی اور مالی نقصان پہنچا تو ذمہ دار شفقت رحیم راجپوت و مذکورہ لوگ ہوں گے، انہوں نے اعلیٰ حکام اور تمام اداروں سے ملزمان کے خلاف کارروائی اور تحفظ کا مطالبہ کیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں