ان سے کیون نہیں پوچھا جاتا جنھوں نے مارشلا لگائے :خورشيد شاهه

سکھر وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاستدانوں سے تو سوالات کیے جارہےہیں کہ ملک کے ایسے حالات کیوں ہیں ان سے ان کے 35 سالوں کا تو حساب مانگا جارہاہے مگر ان سے کوئی سوال نہیں کیا جارہاہے جنہوں نے چار بار ملک میں مارشل لا لگایا جن کے دور میں ملک میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام ہوا دہشتگردی اور طالبانائیزیشن کا ملک شکار ہوا، لوگوں کے ذہنوں میں خلفشار بھرا گیا ہے کہ سیاستدان ووٹ لیکر عیاشی کرتے ہیں، سکھر آئی بی اے میں اساتذہ میں آفر آرڈر تقسیم کرنےکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ ملک میں صرف 13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اور ہمارا 127 ملین ایکڑ فٹ پانی ضایع ہورہاہے جس کی وجہ سے ملک کا سالانہ 8 بلین ڈالر کا نقصان ہورہاہے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 1978 اور 1979 میں ملک کی ستر فیصد بجلی ہائیڈرل تھی لیکن مگر افسوس کہ آج 75 فیصد بجلی تھرمل اور 25 فیصد بجلی ہائیڈرل ہے، خورشید شاہ نے کہا کہ ہمارےتین دریا 1962 میں بھارت کو بیچے گئے عوام سوشل میڈیا پر مارشل لا لگانے والوں سے سوال کرے کہ کیوں ڈیم نہیں بنائے گئے ہم سے سوال کریں ہم۔سیاستدان ہیں اور ایک برا سیاستدان بھی مارشل لا سے ایک کروڑ بار اچھا ہے کیونکہ وہ قوم کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ اور کرپشن کرنے والا سیاستدان نہیں ہوسکتا ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے، ہمارے میڈیا پر بھی پسند کی شادی کرنے پر تو بات کی جاتی ہے لیکن اصل ایشوز پر بات نہیں کی جاتی ہے، عوام صرف سلوگنز پر نہ جائیں بتائیں کیا ان کو ایک کروڑ نوکریاں ملیں، پچاس لاکھ گھر ملے یا سوشل پروگرامز میں ان کو شامل کیا گیا لوگوں کے ذہنوں میں صرف یہ خلفشار بھرا گیا یے کہ سیاستدان ان کے ووٹ سے صرف عیاشی کرتے ہیں میں نے سکھر کو ایجوکیشن سٹی بنادیا ہے پانچ یونیورسٹیاں علاقے کو دی ہیں سکھر میں تین ماہ کے اندر کامسیٹ یونیورسٹی بننے جارہی ہے سکھر میں آئی ٹی ٹاور بنا رہے ہیں جہاں تین ہزار نوجوان اپنا روزگار حاصل کرسکیں گے عوام کو صحت کی فراہمی کے لیے این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی یوٹی اسپتال بنائے ہیں جلد کینسر اسپتال کا افتتاح کرنے جارہے ہیں، خورشید شاہ نے کہا کہ تعلیم اپنا راستہ خود بناتی ہے تعلیم انسان کو ویژن اور سوچ دیتی ہے اور ہمیں معاشرے کو پڑھی لکھی ماں دینا ہے کیونکہ ایک پڑھی لکھی ماں ہی بہتر معاشرے کے قیام میں اپنا کردار اداکرسکتی ہے جس کے لیے ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیم دلانا ہوگی اس موقع پر خورشید شاہ نے801 جے ایس ٹی اساتذہ میں آفر آرڈرز تقسیم کئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں